ابنا: بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی میں ایران کے سفیر علی اصغر سلطانیہ نے کہا ہے کہ ناوابستہ رکن ممالک کے ایک نمائندے نے کل رات ایک جلسہ میں اعلان کیا ہے کہ اس نے سنا ہے کہ ایٹمی ایجنسی کے سکریٹری نے غلط اسناد سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو پیش کی ہیں۔ اس نمائندے نے ایران کے ایٹمی معاملے کے بارے میں غلط اسناد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ناوابستہ ممالک کے نمائندوں نے کل میری درخواست پر ایک ہنگامی جلسہ تشکیل دیا اور میں نے ایران کے ایٹمی معاملے کے بارے میں تصفیلات پیش کیں ۔ اس نے کہا کہ میں نے اس جلسے میں 20 کلیدی سوال پیش کئے اور ان کے جوابات دیتے ہوئے ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ عباسی کے ایٹمی ایجنسی کے سربراہ آمانوکے نام خط کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ ایران ابہامات کو دور کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ اس نے کہا کہ آمانونے غلط رپورٹ پیش کرکے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے وقار کو مجروح کیا ہے اور اسی لئے ناوابستہ تحریک کے نمائندوں نے اس رپورٹ پر شدید اعتراض بھی کیا ہے اس نے کہا کہ سکیورٹی کونسل کے پانچ ارکان کو خفیہ طور پر رپورٹ پیش کرنا غلط اور اکثر ارکان کی توہین ہےجن کے پاس خود ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جبکہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی میں کوئی خاص گروپ بھی نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ روس اور چین کے نمائندوں نے بھی آمانوکی رپورٹ پر متنبہ کیا تھا لیکن آمانونے امریکہ اور مغربی ممالک کے دباؤ میں آکر ایٹمی ایجنسی کے وقار کو مجروح کیا ہے اور اکثرارکان کی رائے کے سراسرخلاف ہے۔ واضح رہے کہ آمانوں نے اپنی رپورٹ میں ایران کے ایٹمی پروگرام میں پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں ابہامات ہیں۔..............
/169